مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُذْنِبِينَ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ . باب: اہل توحید سے تعلق رکھنے والے گناہگار افراد
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا نُوجِبُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى نَزَلَتْ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) قَالَ : فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُوجِبَ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ النَّارَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلْبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : ” ہم کبیرہ گناہ کے مرتکبین افراد کے لئے ( یعنی جہنم ) واجب قرار دیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے ، اس کے علاوہ وہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کر دیا کہ ہم توحید کے قائل افراد میں سے کسی ایک کے لئے جہنم کو واجب قرار دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورجاء کلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔