مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ عُوقِبَ بِذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا . باب: جس شخص کو ، اس کے گناہ کی سزا ، دنیا میں دے دی جائے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَكَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ عَبِيدِكَ يُؤْمِنُ بِكَ ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَتِكَ ، تَزْوِي عَنْهُ الدُّنْيَا ، وَتَعْرِضُ لَهُ الْبَلَاءَ ، وَيَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ عَبِيدِكَ يَكْفُرُ بِكَ ، وَيَعْمَلُ بِمَعَاصِيكَ ، فَتَزْوِي عَنْهُ الْبَلَاءَ ، وَتَعْرِضُ لَهُ الدُّنْيَا ! فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنَّ الْعِبَادَ وَالْبِلَادَ لِي ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُنِي ، وَيُهَلِّلُنِي ، وَيُكَبِّرُنِي ، فَأَمَّا عَبْدِي الْمُؤْمِنُ فَلَهُ سَيِّئَاتٌ فَأَزْوِي عَنْهُ الدُّنْيَا ، وَأَعْرِضُ لَهُ الْبَلَاءَ ; حَتَّى يَأْتِيَنِي فَأَجْزِيَهُ بِحَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا عَبْدِي الْكَافِرُ فَلَهُ حَسَنَاتٌ ، فَأَزْوِي عَنْهُ الْبَلَاءَ ، وَأَعْرِضُ لَهُ الدُّنْيَا ; حَتَّى يَأْتِيَنِي فَأَجْزِيهِ بِسَيِّئَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَنَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک نبی نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا: اے میرے پروردگار ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہوتا ہے ، جو تجھ پر ایمان رکھتا ہے اور تیری اطاعت والے کام کرتا ہے ، اور تو اس سے دنیا کو دور کر دیتا ہے ، اور تو اس کو آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے ، جبکہ تیرا ایک اور بندہ ایسا ہوتا ہے ، جو تیرا کفر کرتا ہے ، تیری نافرمانی کے کام کرتا ہے ، لیکن تو اس سے آزمائش کو دور رکھتا ہے ، اور اس کے سامنے دنیا رکھ دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف یہ وحی کی : سارے بندے اور سارے شہر ( یعنی ساری دنیا ) میری ملکیت ہیں ، اور ہر چیز میری تسبیح یا تحلیل یا تکبیر بیان کرتی ہے ، جہاں تک میرے مومن بندے کا تعلق ہے ، تو اس کے کچھ گناہ ہوتے ہیں ، میں اس سے دنیا لپیٹ لیتا ہوں اور اس کے سامنے آزمائش ڈال دیتا ہوں ، یہاں تک کہ جب وہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو میں اس کی نیکیوں کا اسے بدلہ دے دوں گا ، جہاں تک میرے کافر بندے کا تعلق ہے ، تو اس کی کچھ اچھائیاں ہوتی ہیں ، تو میں اس سے آزمائش کو لپیٹ لیتا ہوں ، اور اس کے سامنے دنیا ڈال دیتا ہوں ، یہاں تک کہ جب وہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو میں اس کی برائیوں کا بدلہ اسے دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید خفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔