کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جس شخص کو ، اس کے گناہ کی سزا ، دنیا میں دے دی جائے
حدیث نمبر: 17470
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ : أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ : مَهْ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَذْهَبَ الشِّرْكَ - قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ ، وَجَاءَ بِالْإِسْلَامِ ، فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : " أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَإِنِّي لَرَافِعٌ أَغْصَانَهَا عَنْ رَأْسِهِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يُسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ ، وَقَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : إِنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِي فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٌ فَأَتْبَعْتُهَا بَصَرِي فَأَصَابَ وَجْهِيَ الْجِدَارُ ، فَأَصَابَنِي مَا تَرَى . ¤ وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کی ملاقات ایک ایسی عورت سے ہوئی ، جو زمانہ جاہلیت میں فاحشہ عورت تھی ، وہ شخص اس عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا ، یہاں تک کے اس شخص نے اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف بڑھایا ، تو اس عورت نے کہا: رُک جاؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو رخصت کر دیا ہے ۔ ( یہاں عفان نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) ۔ زمانہ جاہلیت رخصت ہو گیا ہے ، اور اسلام آ گیا ہے ، وہ شخص مڑ گیا ، اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور وہ شخص زخمی ہو گیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ایک ایسے بندے ہو ، کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا ، اسے جلدی ( یعنی دنیا میں ) ہی دے دیتا ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے ، تو اسے اس کے گناہ پر روکے رکھتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کو اس کا پورا بدلہ دے گا ، اور وہ ” عیر “ نامی پہاڑ کی مانند ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، آپ درخت کے نیچے بیعت لے رہے تھے ، میں آپ کے سر سے درخت کی ٹہنیاں اٹھائے ہوئے تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ اس نے بتایا : میں اپنے گھر سے نکلا ، تو میرا سامنا ایک عورت سے ہوا ، میری نگاہ مسلسل اسی پر مرکوز رہی ، یہاں تک کہ میرا چہرہ دیوار سے لگا اور مجھے وہ چوٹ لگ گئی ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی دو اسانید میں سے ایک اسی طرح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، آپ درخت کے نیچے بیعت لے رہے تھے ، میں آپ کے سر سے درخت کی ٹہنیاں اٹھائے ہوئے تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ اس نے بتایا : میں اپنے گھر سے نکلا ، تو میرا سامنا ایک عورت سے ہوا ، میری نگاہ مسلسل اسی پر مرکوز رہی ، یہاں تک کہ میرا چہرہ دیوار سے لگا اور مجھے وہ چوٹ لگ گئی ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی دو اسانید میں سے ایک اسی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 17471
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتْبَعْتُ بَصَرِي امْرَأَةً ، فَلَقِيَنِي جِدَارٌ فَصَنَعَ بِي مَا تَرَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُ عِيرٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کے چہرے پر خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی نگاہ ایک عورت پر مرکوز رکھی ہوئی تھی ، اسی دوران مجھے دیوار لگ گئی اور میرے ساتھ وہ ہوا ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا اسے دنیا میں جلدی دے دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے تو اس کے گناہ کو اس کے لیے روک لیتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس کو پورا بدلہ دے گا ، اور وہ ( گناہ ) ” عیر “ پہاڑ کی مانند ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17472
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ رَجُلًا مَرَّتْ بِهِ امْرَأَةٌ فَأَحْدَقَ بَصَرَهُ إِلَيْهَا ، فَمَرَّ بِجِدَارٍ فَمَرَسَ وَجْهُهُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَجْهُهُ يُسِيلُ دَمًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَإِذَا أَرَادَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ أَمْهَلَ عَلَيْهِ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُ عِيرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کے پاس سے ، ایک عورت گزری ، وہ مسلسل اس عورت کی طرف دیکھتا رہا اس شخص کا گزر ایک دیوار کے پاس سے ہوا ( یعنی وہ شخص ایک دیوار سے ٹکرایا ) اور اس کا چہرہ زخمی ہو گیا ، جب وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو اس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کام کا ارتکاب کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں اسے جلدی دے دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کے بارے میں ، اس کے علاوہ ارادہ کرے تو اس کے گناہوں کے بارے میں اسے مہلت دیتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اُسے پورا بدلہ عطا کرے گا ، جو ” عیر “ پہاڑ کی مانند ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17473
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَكَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ عَبِيدِكَ يُؤْمِنُ بِكَ ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَتِكَ ، تَزْوِي عَنْهُ الدُّنْيَا ، وَتَعْرِضُ لَهُ الْبَلَاءَ ، وَيَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ عَبِيدِكَ يَكْفُرُ بِكَ ، وَيَعْمَلُ بِمَعَاصِيكَ ، فَتَزْوِي عَنْهُ الْبَلَاءَ ، وَتَعْرِضُ لَهُ الدُّنْيَا ! فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنَّ الْعِبَادَ وَالْبِلَادَ لِي ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُنِي ، وَيُهَلِّلُنِي ، وَيُكَبِّرُنِي ، فَأَمَّا عَبْدِي الْمُؤْمِنُ فَلَهُ سَيِّئَاتٌ فَأَزْوِي عَنْهُ الدُّنْيَا ، وَأَعْرِضُ لَهُ الْبَلَاءَ ; حَتَّى يَأْتِيَنِي فَأَجْزِيَهُ بِحَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا عَبْدِي الْكَافِرُ فَلَهُ حَسَنَاتٌ ، فَأَزْوِي عَنْهُ الْبَلَاءَ ، وَأَعْرِضُ لَهُ الدُّنْيَا ; حَتَّى يَأْتِيَنِي فَأَجْزِيهِ بِسَيِّئَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَنَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک نبی نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا: اے میرے پروردگار ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہوتا ہے ، جو تجھ پر ایمان رکھتا ہے اور تیری اطاعت والے کام کرتا ہے ، اور تو اس سے دنیا کو دور کر دیتا ہے ، اور تو اس کو آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے ، جبکہ تیرا ایک اور بندہ ایسا ہوتا ہے ، جو تیرا کفر کرتا ہے ، تیری نافرمانی کے کام کرتا ہے ، لیکن تو اس سے آزمائش کو دور رکھتا ہے ، اور اس کے سامنے دنیا رکھ دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف یہ وحی کی : سارے بندے اور سارے شہر ( یعنی ساری دنیا ) میری ملکیت ہیں ، اور ہر چیز میری تسبیح یا تحلیل یا تکبیر بیان کرتی ہے ، جہاں تک میرے مومن بندے کا تعلق ہے ، تو اس کے کچھ گناہ ہوتے ہیں ، میں اس سے دنیا لپیٹ لیتا ہوں اور اس کے سامنے آزمائش ڈال دیتا ہوں ، یہاں تک کہ جب وہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو میں اس کی نیکیوں کا اسے بدلہ دے دوں گا ، جہاں تک میرے کافر بندے کا تعلق ہے ، تو اس کی کچھ اچھائیاں ہوتی ہیں ، تو میں اس سے آزمائش کو لپیٹ لیتا ہوں ، اور اس کے سامنے دنیا ڈال دیتا ہوں ، یہاں تک کہ جب وہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو میں اس کی برائیوں کا بدلہ اسے دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید خفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید خفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔