مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ عُوقِبَ بِذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا . باب: جس شخص کو ، اس کے گناہ کی سزا ، دنیا میں دے دی جائے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتْبَعْتُ بَصَرِي امْرَأَةً ، فَلَقِيَنِي جِدَارٌ فَصَنَعَ بِي مَا تَرَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُ عِيرٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کے چہرے پر خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی نگاہ ایک عورت پر مرکوز رکھی ہوئی تھی ، اسی دوران مجھے دیوار لگ گئی اور میرے ساتھ وہ ہوا ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا اسے دنیا میں جلدی دے دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے تو اس کے گناہ کو اس کے لیے روک لیتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس کو پورا بدلہ دے گا ، اور وہ ( گناہ ) ” عیر “ پہاڑ کی مانند ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔