مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ عُوقِبَ بِذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا . باب: جس شخص کو ، اس کے گناہ کی سزا ، دنیا میں دے دی جائے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ : أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ : مَهْ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَذْهَبَ الشِّرْكَ - قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ ، وَجَاءَ بِالْإِسْلَامِ ، فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : " أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَإِنِّي لَرَافِعٌ أَغْصَانَهَا عَنْ رَأْسِهِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يُسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ ، وَقَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : إِنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِي فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٌ فَأَتْبَعْتُهَا بَصَرِي فَأَصَابَ وَجْهِيَ الْجِدَارُ ، فَأَصَابَنِي مَا تَرَى . ¤ وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کی ملاقات ایک ایسی عورت سے ہوئی ، جو زمانہ جاہلیت میں فاحشہ عورت تھی ، وہ شخص اس عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا ، یہاں تک کے اس شخص نے اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف بڑھایا ، تو اس عورت نے کہا: رُک جاؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو رخصت کر دیا ہے ۔ ( یہاں عفان نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) ۔ زمانہ جاہلیت رخصت ہو گیا ہے ، اور اسلام آ گیا ہے ، وہ شخص مڑ گیا ، اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور وہ شخص زخمی ہو گیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ایک ایسے بندے ہو ، کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا ، اسے جلدی ( یعنی دنیا میں ) ہی دے دیتا ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے ، تو اسے اس کے گناہ پر روکے رکھتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کو اس کا پورا بدلہ دے گا ، اور وہ ” عیر “ نامی پہاڑ کی مانند ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، آپ درخت کے نیچے بیعت لے رہے تھے ، میں آپ کے سر سے درخت کی ٹہنیاں اٹھائے ہوئے تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ اس نے بتایا : میں اپنے گھر سے نکلا ، تو میرا سامنا ایک عورت سے ہوا ، میری نگاہ مسلسل اسی پر مرکوز رہی ، یہاں تک کہ میرا چہرہ دیوار سے لگا اور مجھے وہ چوٹ لگ گئی ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی دو اسانید میں سے ایک اسی طرح ہے ۔