حدیث نمبر: 17469
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " ارْحَمُوا تُرْحَمُوا ، وَاغْفِرُوا يُغْفَرْ لَكُمْ ، وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا ، وَهُمْ يَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حِبَّانَ بْنِ يَزِيدَ الشَّرْعِيِّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ ارشاد فرمایا : ” تم لوگ رحم کرو ! تم پر رحم کیا جائے گا ، تم لوگ بخش دو ! تمہاری مغفرت ہو جائے گی ، ان لوگوں کے لئے بربادی ہے ، جو باتوں کو سنبھال کے نہیں رکھتے ہیں ، اور اصرار کرنے والوں کے لئے بربادی ہے ، جو اپنے کئے ہوئے پر اصرار کرتے ہیں ، اور وہ اس بات کا علم رکھتے ہیں ( کہ جو وہ کر رہے ہیں ، وہ غلط ہے ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حبان بن زید شرعبی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام طبرانی نے
یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17469
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (165/2)»