حدیث نمبر: 17454
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَنَفْثِهِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . ¤ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا الَّذِي تَعَوَّذُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا هَمْزُهُ فَالَّذِي يُوَسْوِسُهُ ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَمَا يُلْقِي مِنَ الشُّبَهِ " - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ - " لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ، أَوْ عَلَى الْإِنْسَانِ صَلَاتَهُ " ، وَأَمَّا عَذَابُ الْقَبْرِ فَكَانَ يَقُولُ : " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَاخِرِ الْأَذْكَارِ أَبْوَابٌ فِي الِاسْتِعَاذَةِ وَهَذَا مَوْضِعُهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَنَفْثِهِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»
” اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے ” ہمز “ اس کے ” نفخ “ ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اس کے ” نفث “ سے ، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ چیز کیا ہے ؟ جس سے آپ پناہ مانگ رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اس کے ” ہمز “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جو وہ وسوسہ ڈالتا ہے ، اس کے ” نفث “ سے مراد شاعری کرنا ہے ، اس کے ” نفخ “ سے مراد اس کا شبہات پیدا کرنا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہ شبہات جو وہ نماز کے دوران ڈالتا ہے ، تاکہ وہ آدمی کی نماز کو منقطع کر دے ( یہاں الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جہاں تک قبر کے عذاب کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں یہ فرماتے تھے : ” زیادہ تر قبر کا عذاب ، پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” کتاب الاذکار “ کے آخر میں پناہ مانگنے سے متعلق کچھ ابواب گزرے ہیں اور یہ ان کا مخصوص مقام ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3210)»