مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : مُرْنِي بِدَعَوَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِنَّ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ : " سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد بن عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ مجھے ایسی دعاؤں کے بارے میں حکم دیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا تھا ، جو سوال تم نے مجھ سے کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عفو ( یعنی معاف کرنے ) اور عافیت کا سوال کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذکونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔