مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
حدیث نمبر: 17377
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ دَعْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی دعا ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو کہ بندہ وہ دعا مانگئے ، وہ یہ کہے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ” اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے معاف کر دینے اور دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علاء بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔