حدیث نمبر: 17349
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ شَيْئًا فَأَرَادَ أَنْ يَفْعَلَهُ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ لَا يَفْعَلَ شَيْئًا سَكَتَ ، وَكَانَ لَا يَقُولُ لِشَيْءٍ : لَا ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَسَأَلَهُ فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَهَيْئَةِ الْمُنْتَهِرِ : " سَلْ مَا شِئْتَ يَا أَعْرَابِيُّ " . فَغَبَطْنَاهُ فَقُلْنَا : الْآنَ يَسْأَلُ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ [ لَهُ ] الْأَعْرَابِيُّ : أَسْأَلُكَ رَاحِلَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ ذَلِكَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ لَهُ : " سَلْ " ، قَالَ : أَسْأَلُكَ زَادًا ، قَالَ : " لَكَ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَتَعَجَّبْنَا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ بَيْنَ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ وَعَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ! " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مُوسَى لَمَّا أُمِرَ أَنْ يَقْطَعَ الْبَحْرَ فَانْتَهَى إِلَيْهِ ، فَصُرِفَتْ وُجُوهُ الدَّوَابِّ فَرَجَعَتْ ، قَالَ مُوسَى : مَا لِي يَا رَبُّ ؟ قَالَ لَهُ : إِنَّكَ عِنْدَ قَبْرِ يُوسُفَ ، فَاحْتَمِلْ عِظَامَهُ مَعَكَ ، وَقَدِ اسْتَوَى الْقَبْرُ بِالْأَرْضِ ، فَجَعَلَ مُوسَى لَا يَدْرِي أَيْنَ هُوَ ، قَالُوا : إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَعْلَمُ أَيْنَ هُوَ ، فَعَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَعَلَّهَا تَعْلَمُ أَيْنَ هُوَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : هَلْ تَعْلَمِينَ أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : فَدُلِّينِي عَلَيْهِ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تُعْطِيَنِي مَا أَسْأَلُكَ ، قَالَ : ذَلِكَ لَكِ ، قَالَتْ : فَإِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ الَّتِي تَكُونُ فِيهَا فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ : سَلِي الْجَنَّةَ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنْ أَكُونَ مَعَكَ ، فَجَعَلَ مُوسَى يُرَادُّهَا ، فَأَوْحَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَيْهِ : أَنْ أَعْطِهَا ذَلِكَ ; فَإِنَّهُ لَا يُنْقِصُكَ شَيْئًا ، فَأَعْطَاهَا وَدَلَّتْهُ عَلَى الْقَبْرِ ، فَأَخْرَجَ الْعِظَامَ ، وَجَاوَزَ الْبَحْرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی ، اور آپ کا ویسا کرنے کا ارادہ ہوتا ، تو آپ یہ فرما دیتے تھے : ٹھیک ہے ، اور جب آپ کا ویسا کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا تھا ، تو آپ خاموش رہتے تھے ، آپ کسی بھی چیز کے لیے ” نہیں “ ارشاد نہیں فرماتے تھے ، ایک مرتبہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے کچھ مانگا ، تو آپ خاموش رہے ، اس نے پھر آپ سے مانگا ، تو آپ خاموش رہے ، اس نے پھر آپ سے مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹنے کے طور پر اس سے فرمایا : اے دیہاتی ! تم جو چاہو مانگ لو ! ہمیں اُس شخص پر بڑا رشک آیا ، ہم نے سوچا اب یہ جنت مانگے گا ، اس دیہاتی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں آپ سے ایک سواری مانگتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہیں مل جائیگی ، پھر آپ نے اس سے فرمایا : تم مانگو ! ( یعنی مزید کچھ مانگو ) اس نے کہا: میں آپ سے زاد سفر مانگتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہیں مل جائے گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمیں اس بات پر حیرانگی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس دیہاتی کے اور بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کے مانگنے کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دریا پار کر لیں ، تو وہ دریا کے پاس پہنچے تو ان کے جانوروں کے رخ پھیر دیے گئے اور وہ واپس چلے گئے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : اے میرے پروردگار ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ پروردگار نے ان سے فرمایا : تم یوسف کی قبر کے پاس ہو ، تم اُس کی ہڈیاں اپنے ساتھ اٹھا لو ! سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر زمین کے برابر ہو چکی تھی ( یعنی اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہا تھا ) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ پتا نہیں تھا کہ ان کی قبر کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا: اگر کسی کو اس بارے میں علم ہو سکتا ہے ، تو بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کو ہو سکتا ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتی ہو ؟ کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم ہمیں اس کے بارے میں بتاؤ ! اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک آپ مجھے وہ چیز نہیں دیں گے ، جو میں آپ سے مانگوں گی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : یہ چیز تمہیں ملی ، اس عورت نے کہا: میں آپ سے یہ مانگتی ہوں کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ اسی درجے میں ہوؤں ، جس میں آپ ہوں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم صرف جنت مانگ لو ! اُس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے ساتھ تکرار کرتے رہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی کہ تم اس عورت کو یہ چیز دے دو ! کیونکہ اس سے تمہیں کوئی کمی نہیں آئے گی ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اُسے یہ چیز دیدی ، اس عورت نے قبر کے بارے میں ان کو بتایا انہوں نے ہڈیاں نکالیں اور دریا کو پار کر گئے ۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف