حدیث نمبر: 17348
عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَقَالَ : " أَعَجَزْتَ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ! " . فَقَالَ أَصْحَابُهُ : وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! فَقَالَ : " إِنَّ مُوسَى حِينَ أُمِرَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ضَلَّ الطَّرِيقَ ، فَسَأَلَ بَنِي إِسْرَائِيلَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ : إِنَّ يُوسُفَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ مُوسَى : وَأَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ ؟ فَقَالَ لَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ : مَا يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ إِلَّا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي ، قَالَ : وَمَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَأَنَّهُ ثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَعْطِهَا حُكْمَهَا ، فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ ، فَقَالَتِ : انْضُبُوا هَذَا الْمَكَانَ ، فَلَمَّا أَنْضَبُوهُ قَالَتِ : احْفِرُوا فِي هَذَا الْمَكَانِ ، فَلَمَّا احْتَفَرُوا أَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا اسْتَقَلُّوهَا مِنَ الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ النَّهَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : عَنْ أَبِي مُوسَى ¤ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَأَكْرَمَهُ ، فَقَالَ : " ائْتِنَا " ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ حَاجَتَكَ " ، فَقَالَ : نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا ، وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ! " ، فَقَالَ : " إِنَّ مُوسَى لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيقَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ : إِنَّ يُوسُفَ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ : أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ فَقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ ، قَالَتْ : حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي ، قَالَ : وَمَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا . فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مَوْضِعَ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ فَقَالَتِ : انْضُبُوا هَذَا الْمَكَانَ ، فَأَنْضَبُوهُ ، قَالَتِ : احْتَفِرُوا وَاسْتَخْرِجُوا عِظَامَ يُوسُفَ ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهَذَا الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى سِيَاقِهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے عاجز ہو ؟ کہ بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت جیسے ہو جاؤ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : یا رسول اللہ ! بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہو جائیں ، تو وہ راستہ بھول گئے ، انہوں نے بنی اسرائیل سے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی وفات کا وقت جب قریب آیا تھا ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے نکلیں گے تو ان کے جسد خاکی کو بھی ساتھ لے جائیں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں سے دریافت کیا : تم میں سے کون یہ بات جانتا ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ بنی اسرائیل کے علماء نے ان سے کہا: یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ البتہ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس خاتون کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس سے فرمایا : تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کے بارے میں مجھے بتاؤ ! تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا ، جب تک آپ مجھے وہ چیز نہیں دینگے جو میں نے طے کی ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے کیا طے کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات مشکل محسوس ہوئی ، تو اُن سے کہا: گیا : آپ اس کو وہ دے دیں جس کی یہ طلبگار ہے ، پھر وہ عورت ان لوگوں کو ساتھ لے کر ایک جگہ گئی ، جہاں سے پانی پھوٹتا تھا اور آس پاس جھیل سی تھی ، اس عورت نے کہا: اس جگہ سے پانی خشک کرو ، جب ان لوگوں نے ایسا کیا ، تو اس نے کہا: اب اس جگہ کو کھودو ! جب ان لوگوں نے اس جگہ کو کھودا ، تو وہاں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکلیں ، جب اُن لوگوں نے انہیں نکال لیا ، تو ان کے سامنے دن کی طرح راستہ روشن ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ( شاید اصل الفاظ یہ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے تھے ، اس نے آپ کا احترام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آنا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی حاجت مانگو ! اس نے کہا: ایسی اونٹنی دے دیں ، جس پر ہم سواری کر سکیں اور ایسی بکریاں دیدیں ، جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ سکیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات سے عاجز ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کی مانند ہوتے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے ، تو وہ لوگ راستہ بھول گئے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا : کہ جب سیدنا یوسف علیہ السلام کا آخری وقت قریب آیا تھا ، تو انہوں نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم مصر سے اُس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک اُن کی ہڈیاں اپنے ساتھ لے کر نہیں جائیں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : اُن کی قبر کے بارے میں کس کو علم ہے ؟ تو کسی نے بتایا : بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کو پتا ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا ، وہ اُن کے پاس آئی ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کے بارے میں ہمیں بتاؤ ! تو اس عورت نے کہا: یہ اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک آپ مجھے وہ چیز نہیں دیں گے ، جو میں نے طے کی ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے کیا طے کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ اس کو یہ چیز دیں ( یعنی اس کے ساتھ یہ وعدہ کریں ) تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی کہ تم اس عورت کو وہ چیز دے دو جو اُس نے طے کی ہے ، پھر وہ خاتون ان لوگوں کو ساتھ لے کر ایک جھیل نما جگہ کی طرف گئی ، جہاں سے پانی پھوٹتا تھا ، اس نے کہا: اس پانی کو خشک کرو ، ان لوگوں نے پانی کو خشک کیا ، تو اس عورت نے کہا: اس جگہ کو کھودو ! ان لوگوں نے کھدائی کی ، اور سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکال لیں ، جب انہوں نے ایسا کر لیا ، تو راستہ دن کی روشنی کی مانند صاف ہو چکا تھا ۔ “ امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، اور اس چیز نے مجھے اس بات کی ترغیب دی جو اس روایت کا سیاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7254)»