مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِشَارَةِ فِي الدُّعَاءِ ، وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ . باب: دعا میں اشارہ کرنا اور دونوں ہاتھ بلند کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ بِعَرَفَةَ يَدْعُو ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا الِابْتِهَالُ ، ثُمَّ صَاحَتِ النَّاقَةُ فَفَتَحَ إِحْدَى يَدَيْهِ ، فَأَخَذَهَا ، وَهُوَ رَافِعٌ الْأُخْرَى ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَسَقَطَ زِمَامُ النَّاقَةِ ، فَتَنَاوَلَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَزَادَ : هَذَا الِابْتِهَالُ وَالتَّضَرُّعُ . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الصُّوفِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنْسٍ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ میں دعا کرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار ہے ، اسی دوران اونٹنی نے آواز نکالی ، تو آپ نے دونوں میں سے ایک ہاتھ کو کھولا اور اس کے ذریعے اونٹنی کو پکڑا ، اور آپ نے اس دوران دوسرا ہاتھ اُٹھایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کئے ہوئے تھے ، اونٹنی کی لگام گر گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا اور دونوں ہاتھ بلند کر لیے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہ عاجزی اور گریہ و زاری کی وجہ سے تھا ۔ “ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔