مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذُكِرَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ بھیجے
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيَ عَتَبَةَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ رَقِيَ أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " ، فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; أَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; أَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ خَرَّجَ ابْنُ حِبَّانَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي صَحِيحِهِ مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ . ¤سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی سیڑھی پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، جب آپ دوسری سیڑھی پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، جب آپ تیسری سیڑھی پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ نے بتایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جو شخص اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر جہنم میں چلا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں اس سند کے حوالے سے نقل کی ہے ۔