مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذُكِرَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ بھیجے
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . فَلَمَّا نَزَلَ قِيلَ لَهُ . فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَجُلٌ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے تو آپ سے دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو اپنے ماں باپ کو پائے اور پھر وہ دونوں اُسے جنت میں داخل نہ کروا سکیں ( یعنی وہ ان دونوں کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے ) تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دور کرے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو ، اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، اللہ تعالیٰ اُسے دور کرے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔