مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمْ مِنْ مَظْلُومٍ ، وَغَائِبٍ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: ان لوگوں کا بیان ، جن ک دعا رد نہیں ہوتی ، جیسے مظلوم ، غیر موجود شخص اور دیگر لوگ
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ ، الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْغَيْرَةِ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَ ( مَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَالْأُخْرَى يَبْغَضُهَا اللَّهُ ) ، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبَرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " . وَقَالَ : " ثَلَاثَةٌ تُسْتَجَابُ دَعْوَتُهُمُ : الْوَالِدُ ، وَالْمُسَافِرُ ، وَالْمَظْلُومُ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مزاج کی تیزی دو قسم کی ہوتی ہے ، ایک قسم کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، مشکوک کے بارے میں مزاج کی تیزی کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور مشکوک کے علاوہ صورتحال میں مزاج کی تیزی کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، اور اترانا دو طرح کا ہوتا ہے ، ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری قسم کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، جب کوئی شخص صدقہ کرتے ہوئے اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے اور جب کوئی شخص تکبر کرتے ہوئے اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں ، جن کی دعا قبول ہوتی ہے ، والد ، مسافر اور مظلوم ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن زید ازرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔