حدیث نمبر: 17211
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِابْنِ آدَمَ : يَا ابْنَ آدَمَ ، ثَلَاثٌ وَاحِدَةٌ لِي وَوَاحِدَةٌ لَكَ ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، أَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي وَلَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ عَمَلٍ جَزَيْتُكَ بِهِ ، وَإِنْ أَغْفِرْ فَأَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ : فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَالْمَسْأَلَةُ ، وَعَلَيَّ الِاسْتِجَابَةُ وَالْعَطَاءُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ فِي الْإِيمَانِ فِي حَقِّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ابن آدم سے فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تین چیزیں ہیں ، ایک میرے لیے ہے ، ایک تمہارے لئے ہے اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے لیے ہے ، تو تم میری عبادت کرو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراؤ ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے ، جو تمہارے لئے ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم جو بھی عمل کرو گے ، میں تمہیں اس کی جزا دوں گا ، اور میں مغفرت کر دوں گا ، میں مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہوں ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ، تو تمہاری طرف سے دعا کرنا اور مانگنا ہے اور میرے ذمہ دعا قبول کرنا اور عطا کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے حمید بن ربیع کے حوالے سے علی بن عاصم سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی ایک حدیث ، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کتاب الایمان میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6137)»