مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ قَبُولِ دُعَاءِ الْمُسْلِمِ . باب: مسلمان کی دعا کا قبول ہونا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ : إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا فِي الْآخِرَةِ ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا " . قَالُوا : إِذًا نُكْثِرُ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْثَرُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان جو دعا کرتا ہے ، جس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کا پہلو نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کا نتیجہ ، تین میں سے ایک صورت میں اسے عطا کر دیتا ہے ، یا تو اس کی دعا کا اثر جلدی ظاہر ہو جاتا ہے ، یا ( اس کا اجر ) اللہ تعالیٰ آخرت کے لیے سنبھال کے رکھ لیتا ہے ، یا پھر اس کے حساب سے ، اُس شخص سے کسی برائی ( یا تکلیف ) کو دور کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : پھر تو ہمیں بکثرت دعا کرنی چاہیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ کثرت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال اور امام بزار کی رو میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔