مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ " ادْعُوا وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ " . باب: تم لوگ دعا کرو ، جبکہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو
حدیث نمبر: 17205
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ الْقُلُوبُ أَوْعِيَةٌ ، فَخَيْرُهَا أَوْعَاهَا ; فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ وَأَنْتُمْ وَاثِقُونَ بِالْإِجَابَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءَ مَنْ دَعَا عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ دل برتن ہوتے ہیں ، ان میں زیادہ بہتر وہ ہوتا ہے جو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو ، جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے ایسی حالت میں مانگو کہ تم دعا کی قبولیت کا وثوق ( یعنی یقین ) رکھتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل دل کے ساتھ دعا کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون واسطی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔