حدیث نمبر: 17201
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهَا ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا ، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمِ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يُعَجِّلْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا اسْتِعْجَالُهُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ ( وَدَعَوْتُ ) فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِذًا نُكْثِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَكْثَرُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ اسْتِعْجَالِ الدُّعَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روئے زمین پر جو بھی مسلمان شخص اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ یا تو وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، یا اس کی مانند کوئی برائی اس سے روک لیتا ہے ، جبکہ اس شخص نے کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کی ہو ، اور جب تک وہ جلدبازی کا مظاہرہ نہ کرے ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کے جلدبازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ یہ کہے : میں نے دعا کی ، میں نے دعا کی لیکن وہ قبول ہی نہیں ہوئی ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تو ہمیں بکثرت ایسا ( یعنی دعا ) کرنا چاہیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ( فضل و کرم کے حوالے سے ) سب سے زیادہ کثرت والا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے دعا کے بارے میں جلدبازی والے حصے سے متعلق اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف