مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الِاسْتِعْجَالِ فِي الدُّعَاءِ . باب: دعا ( کی قبولیت کا اثر ظاہر ہونے ) کے بارے میں ، جلدی کرنے کا ناپسندیدہ ہونا
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ ! قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ مسلسل بھلائی پر رہتا ہے ، جب تک وہ جلدبازی نہیں کرتا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! وہ کیسے جلدبازی کرتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ یہ کہتا ہے : میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی ، لیکن اس نے میری دعا قبول ہی نہیں کی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسبی ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔