حدیث نمبر: 17192
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ ، وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ ، وَإِنَّ الدُّعَاءَ لَيُصَادِفُ الْبَلَاءَ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احتیاط ، تقدیر کے مقابلے میں کام نہیں آتی ہے اور دعا اس بارے میں بھی نفع دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو ، اور اس بارے میں بھی جو نازل نہ ہوئی ہو ، دعا آزمائش کے سامنے آتی ہے اور پھر وہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے جسے أحمد بن صالح مصری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2165)»