مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ كَفَّارَةِ الْمَجْلِسِ . باب: مجلس کے کفارہ کا بیان
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِذَا قُمْنَا مِنْ عِنْدِكَ أَخَذْنَا فِي أَحَادِيثِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " إِذَا جَلَسْتُمْ تِلْكَ الْمَجَالِسَ الَّتِي تَخَافُونَ فِيهَا ( عَلَى أَنْفُسِكُمْ ) فَقُولُوا عِنْدَ مُقَامِكُمْ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ ، يُكَفِّرْ عَنْكُمْ مَا أَصَبْتُمْ فِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم آپ کے پاس سے اُٹھتے ہیں ، تو ہم زمانہ جاہلیت کی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اس طرح کی محافل میں بیٹھو ، جن میں تمہیں اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہو ( کہ کہیں تم سے کوئی غلط بات سرزد نہ ہو گئی ہو ) تو تم اُٹھتے وقت یہ پڑھ لیا کرو : «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ» ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم تیری بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو تم نے اس محفل میں جو غلطی کی ہو گی وہ ختم ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔