حدیث نمبر: 17155
وَعَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ قَالَ : لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا شَدَّادٍ ، أَصْلَحَكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : بِخَيْرٍ يَا ابْنَ أَخِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ أَوِ الْأَدَبِ . ¤
محمد محی الدین

یونس بن میسرہ بن حلبس بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے انہیں سلام کیا ، میں نے کہا: اے ابوشداد ! آپ کا کیا حال ہے ؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس سے پہلے اس بارے میں کچھ روایات ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں اور آداب سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/22)»