مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى مَا يُعْجِبُهُ . باب: جب آدمی کوئی ایسی چیز دیکھے ، جو اسے اچھی لگے ، تو وہ کیا پڑھے ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ، وَمَنْ أَبْطَأَ رِزْقُهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت پہنائے ( یعنی کوئی نعمت عطا کرے ) تو اسے کثرت کے ساتھ الحمد اللہ پڑھنا چاہیے اور جس شخص کے گناہ زیادہ ہوں اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے اور جس کے رزق میں تاخیر ہوتی ہو ، اسے کثرت کے ساتھ «لا حول ولا قوة إلا بالله» پڑھنا چاہیے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔