مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْحَرِيقِ . باب: آگ لگ جانے کے وقت ، آدمی کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17141
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْفِئُوا الْحَرِيقَ بِالتَّكْبِيرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ الْكَهْفِ ، أَسْمَاءُ أَهْلِ الْكَهْفِ ، إِذَا كُتِبَتْ فِي شَيْءٍ ، وَأُلْقِيَ فِي الْحَرِيقِ طُفِئَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اگر کہیں آگ لگ جائے ) تو تکبیر کے ذریعے آگ کو بجھاؤ ! ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب التفسیر میں سورہ کہف سے متعلق باب میں اصحاب کہف کے نام ذکر ہوئے ہیں اور وہاں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ جو شخص کسی چیز پر ان لوگوں کے نام لکھ کر جلتی ہوئی آگ میں ڈال دے ، تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے تحت وہ آگ بجھ جائے گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔