مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَافَ سُلْطَانًا . باب: جس آدمی کو حکمران سے خوف ہو ، تو وہ کیا پڑھے ؟
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - " وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کو حکمران کے حوالے سے خوف ہو ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! عظیم عرش کے پروردگار ! تو فلاں بن فلاں کے شر سے مجھے بچانے والا ہو جا ! ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہاں وہ شخص اُس کا نام لے گا ( جس سے بچنا ) چاہتا ہے ۔ اور جنات اور انسانوں اور ان کے پیروکاروں کے شر سے ( مجھے بچانے والا ہو جا ) کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف زیادتی کرے ، تیری پناہ غلبے والی ہے ، تیری ثناء بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن سلم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔