کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس آدمی کو حکمران سے خوف ہو ، تو وہ کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17135
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - " وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کو حکمران کے حوالے سے خوف ہو ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! عظیم عرش کے پروردگار ! تو فلاں بن فلاں کے شر سے مجھے بچانے والا ہو جا ! ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہاں وہ شخص اُس کا نام لے گا ( جس سے بچنا ) چاہتا ہے ۔ اور جنات اور انسانوں اور ان کے پیروکاروں کے شر سے ( مجھے بچانے والا ہو جا ) کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف زیادتی کرے ، تیری پناہ غلبے والی ہے ، تیری ثناء بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن سلم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9795)»
حدیث نمبر: 17136
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا ، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ ( الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ) الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ ، وَجُنُودِهِ ، وَأَتْبَاعِهِ ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَعَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ( ثَلَاثُ مَرَّاتٍ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب تم کسی ایسے حکمران کے پاس جاؤ جس کے بارے میں تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کرے گا ، تو تم یہ پڑھو :
«اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا ، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ ، وَجُنُودِهِ ، وَأَتْبَاعِهِ ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَعَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
” اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق سے زیادہ بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ غلبے والا ہے ، جس سے مجھے خوف ہے ، اور اندیشہ ہے ، میں اُس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جس نے سات آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ( میں پناہ مانگتا ہوں ) تیرے فلاں بندے اور اس کے لشکروں اور اس کے پیروکاروں اور جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے ، اُس کے ساتھیوں کے شر سے ، اے اللہ ! تو مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھنے والا ہو جا ! تیری ثناء جلیل القدر ہے ، تیری پناہ زبردست ہے ، تیرا اسم برکت والا ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ کلمات آدمی کو تین مرتبہ پڑھنے چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17136
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1480) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10599)»