مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصَابَهُ هَمٌّ . باب: جب آدمی کو پریشانی لاحق ہو ، تو وہ کیا پڑھے ؟
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَصَابَهُ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ فَلْيَدْعُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي " . ¤ قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمَغْبُونَ لَمَنْ غَبَنَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، قَالَ : " أَجَلْ " . قَالَ : " فَقُولُوهُنَّ ، وَعَلِّمُوهُنَّ ; فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ وَعَلَّمَهُنَّ الْتِمَاسَ مَا فِيهِنَّ أَذْهَبَ اللَّهُ كَرْبَهُ ، وَأَطَالَ فَرَحَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کو پریشانی یا غم لاحق ہو ، اسے ان کلمات کے ہمراہ دعا کرنی چاہیے : «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي»
” اے اللہ ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، جو تیرا ہے ، جو تو نے خود اپنا نام رکھا ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا جس کے بارے میں تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی علم عطا کیا یا جس کو تو نے غیب میں اپنے پاس رکھا ( میں اُس کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : ) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی بنا دے ۔ “
ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص نقصان والا ہو گا ، جسے ان کلمات کے حوالے سے نقصان ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم انہیں پڑھو اور ان کی تعلیم دو ! کیونکہ جو شخص انہیں پڑھے گا اور ان میں موجود برکات کے حصول کے لیے ان کی تعلیم دے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا اور اس کی خوشی کو طویل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔