حدیث نمبر: 17129
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَصَابَ أَحَدًا هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ قَطُّ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : " أَجَلْ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَذَهَابَ غَمِّي " . مَكَانَ " هَمِّي " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی شخص کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو ، اور وہ یہ پڑھ لے : «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي»
” اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے حوالے ( یعنی وسیلے ) سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور جو تو نے خود اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کا علم تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی دیا ہے ، یا جس کے حوالے سے تو نے ترجیح کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی ذات کے ساتھ اس کو مخصوص رکھا ، اور وہ غیب کے علم سے تعلق رکھتا ہے ( اس کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : کہ ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی کا باعث بنا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پریشانی کو ختم کر دے گا ، اور اس کے غم کی جگہ خوشی نصیب کر دے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جو بھی ان کلمات کے بارے میں سنتا ہے ، اُس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” پریشانی “ کی جگہ لفظ ” غم “ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3122) اخرجه ابو يعلى فى المسند (5297) أخرجه أحمد فى (3712 و 4318)»