مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرِقَ أَوْ فَزِعَ . باب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ أَصَابَهُ أَرَقٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ نِمْتَ ؟ قُلِ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ أَجْمَعِينَ ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، أَوْ يَطْغَى ، عَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ . ¤سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں پریشانی لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ جنہیں تم سوتے وقت پڑھ لیا کرو ، تم یہ پڑھا کرو : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ أَجْمَعِينَ ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، أَوْ يَطْغَى ، عَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» ” اے اللہ ! اے سات آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے تمام زمینوں ! اور جو کچھ زمینوں نے اٹھایا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، اُن کے پروردگار ! تو اپنی ساری بری مخلوق کے حوالے سے مجھے پناہ دینے والا ہو جا ! کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف افراط کا مظاہرہ کرے یا سرکشی کرے ( یعنی ان کی سرکشی اور زیادتی سے مجھے محفوظ رکھنا ) ، تیری پناہ زبردست ہے اور تیرا اسم برکت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عبدالرحمن بن سابط نامی راوی نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔