مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي اللَّيْلِ . باب: آدمی رات کے وقت کیا پڑھے ؟
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ : ( فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا ) كَانَ لَهُ نُورٌ مِنْ عَدَنَ أَبْيَنَ إِلَى مَكَّةَ ، حَشْوُهُ الْمَلَائِكَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص رات کے وقت یہ آیت پڑھ لے : ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف : 110]
” پس جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کی امید ( یعنی یقین ) رکھتا ہو ، اسے نیک عمل کرنا چاہئے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے لیے ” عدن ابین “ سے لے کر ” مکہ “ تک نور بن جاتا ہے جس میں فرشتے موجود ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوقرہ اسدی ہے ، نضر بن شمیل کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔