حدیث نمبر: 17037
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْ : أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَشْتَكِي الْخِدْمَةَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَاللَّهِ ، لَقَدْ مَجَلَتْ يَدَايَ مِنَ الرَّحَى ، أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ، إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِيمَا يَفْعَلُ بَعْدَ الصُّبْحِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور گھر کے کام کاج کی شکایت کی ، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھ خراب ہو گئے ہیں ، ایک مرتبہ مجھے آٹا پیسنا پڑتا ہے ، ایک مرتبہ گوندھنا پڑتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی رزق نصیب کیا تو وہ تم تک پہنچ جائے گا ، لیکن میں تمہاری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف کرتا ہوں ، جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الله اكبر» اور چونتیس مرتبہ «الحمد لله» پڑھو ، تو یہ ایک سو مرتبہ ( ذکر کرنا ) تمہارے لئے خادم ( مل جانے ) سے بہتر ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے کہ آدمی کو صبح کے بعد کیا کرنا چاہیے ؟ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔