حدیث نمبر: 17029
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُفْرَشُ لَهُ ، فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ ، فَإِذَا آوَى إِلَيْهِ تَوَسَّدَ كَفَّهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ هَمَسَ لَا نَدْرِي مَا يَقُولُ ، فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ ذَلِكَ رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ - أَوْ رَبَّ - كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ . ¤ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بستر کے بارے میں حکم دیتے تھے ، اُسے آپ کے لیے بچھا دیا جاتا تھا ، پھر آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے ، جب آپ اس پر لیٹتے تھے تو آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو تکیہ بنا لیتے تھے ، پھر آپ پست آواز میں کچھ پڑھتے تھے ، ہمیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں ؟ لیکن اس کے آخر میں ، آپ اپنی آواز بلند کر لیتے تھے اور یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ - أَوْ رَبَّ - كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ۔ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! اے عظیم عرش کے پروردگار ! اے ہر شئے کے پروردگار ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر شے کے معبود ! اے تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے ! دانے اور گٹھلی کو چیر دینے والے ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے ، اے اللہ ! بے شک تو اول ہے ، تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا ، اور تو آخر ہے ، تیرے بعد کچھ نہیں ہو گا ، تو ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے ، تو باطن ہے ، تجھ سے نیچے کچھ نہیں ہے ، تو ہمارا قرض ادا کروا دے ، اور ہمیں غربت سے بے نیاز کر دے ۔ “

یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7447)»