حدیث نمبر: 17028
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا آوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ ابْتَدَرَهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ : اخْتِمْ بِخَيْرٍ ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ : اخْتِمْ بِشَرٍّ ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ ثُمَّ نَامَ ، بَاتَ الْمَلَكُ يَكْلَؤُهُ ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْمَلَكُ : افْتَحْ بِخَيْرٍ ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ : افْتَحْ بَشَرٍّ ، فَإِنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ وَقَعَ عَنْ سَرِيرِهِ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ الشَّامِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب آدمی اپنے بستر پر جاتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان لپک کر اس کی طرف جاتے ہیں ، فرشتہ کہتا ہے : تم بھلائی کے ذریعے اختتام کرو ! شیطان کہتا ہے : تم شر کے ذریعے اختتام کرو ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ شخص اللہ کا ذکر کر کے سوئے ، تو فرشتہ رات بھر اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے ، اور جب وہ شخص بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : تم بھلائی کے ذریعے آغاز کرو ! اور شیطان کہتا ہے : تم برائی کے ذریعے آغاز کرو ! اگر وہ شخص یہ پڑھ لے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری جان مجھے لوٹا دی اور نیند کے دوران اُسے موت نہیں دی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اس حوالے سے تھاما ہوا ہے کہ وہ زائل ہو جائیں ( راوی کہتے ہیں : اس آیت کو آخر تک پڑھنا ہے ، اور پھر یہ پڑھنا ہے : ) ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمان کو تھام رکھا ہے کہ وہ زمین پر گر جائے ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ شخص اپنے پلنگ سے گر کر مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1791)»