مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : " مَنْ قَالَ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي لَيْلَتِهِ " . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو أَبِي مَعْمَرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الْقَوْلِ مِنْ لَدْغَةِ الْعَقْرَبِ فِيمَا يَقُولُ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ . ¤ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص سورج غروب ہونے کے وقت یہ کلمات پڑھے : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ»
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اُس شخص کو کوئی چیز ، اُس رات میں نقصان نہیں پہنچا پائے گی ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی محمد بن ابراہیم ہے جو ابومعمر کا بھائی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، آخری دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث آگے چل کر اس باب میں آئے گی کہ جب آدمی کو بچھو ڈنک مار لے ، تو اسے کیا پڑھنا چاہیے ؟ اور جب وہ اپنے بستر پر جائے تو کیا پڑھنا چاہیے ؟