مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا . باب: نماز میں اور اس کے بعد دعا مانگنا
وَفِي رِوَايَةٍ : مَسَحَ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى وَقَالَ فِيهَا : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهِ زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو پیشانی پر رکھتے تھے اور پھر یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ»
” اے اللہ ! مجھ سے پریشانی اور غم کو دور کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ” زیدعمی“ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔