مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ . باب: آدمی صبح اور مغرب کی نماز کے بعد کیا پڑھے ؟
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ ; كُنَّ لَهُ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رَقَبَاتٍ ، وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد دس مرتبہ یہ پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو یہ عمل اُس کے لیے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا اور ان کلمات کی وجہ سے اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ، اور ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور یہ کلمات شام ہونے تک شیطان سے اس کے لیے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گے ، اور اگر کوئی شخص مغرب کے بعد انہیں پڑھ لے گا ، تو اس کی مانند ( یعنی اجر و ثواب ) حاصل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے جبکہ امام طبرانی کی روایت میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن حافظے کی خرابی کا شکار ہے ، ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔