حدیث نمبر: 16953
وَعَنْ مُدْرِكٍ قَالَ : مَرَرْتُ بِبِلَالٍ ، وَهُوَ جَالِسٌ حِينَ صَلَّى الْغَدَاةَ فَقُلْتُ : مَا يُجْلِسُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : أَنْتَظِرُ طُلُوعَ الشَّمْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُدْرِكِ بْنِ عَوْفٍ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

مدرک بیان کرتے ہیں : میرا گزر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا وہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں سورج نکلنے کا انتظار کر رہا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مدرک بن عوف بجلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1014)»