حدیث نمبر: 16943
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي يَعْلَى : " لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " . ¤ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ لَمْ يُذْكَرْ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، وَيَزِيدُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

امام ابویعلیٰ کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں ، جو صبح سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتے رہیں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے ، جس بھی چیز پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔ “ امام أحمد کی روایت میں یزید رقاشی نامی راوی کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معلیٰ بن زیاد کے حوالے سے ، یزید رقاشی سے نقل کی ہے ، اور یزید کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4125)»