حدیث نمبر: 16941
وَعَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عَائِشَةَ - تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْفَجْرِ - أَوْ قَالَ : الْغَدَاةِ - فَقَعَدَ فِي مَقْعَدِهِ ، فَلَمْ يَلْغُ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا ، وَيَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُصَلِّيَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، لَا ذَنْبَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ سَلْمَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے اُم المؤمنین ، یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، وہ فرماتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص فجر کی نماز ادا کر لے ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ صبح کی نماز ادا کر لے اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھا رہے ، اس دوران وہ دنیا کے کسی کام سے تعلق رکھنے والی کوئی لغو حرکت نہ کرے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے ، یہاں تک کہ چاشت کی نماز کی چار رکعات ادا کر لے ، تو وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ، اس کا کوئی گناہ نہیں تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طیب بن سلمان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4365)»