مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعَصْرِ . باب: صبح مغرب اور عصر کی نماز کے بعد آدمی کیا کرے ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ ، وَعُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي [ مَسْجِدِ ] جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ ثَبَتَ حَتَّى يُسَبِّحَ اللَّهَ سُبْحَةَ الضُّحَى [ كَانَ ]، لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ ، تَامٌ لَهُ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز مسجد میں باجماعت ادا کرے ، پھر اپنی جگہ ٹھہرا رہے ، یہاں تک کہ وہ چاشت کی نماز ادا کر لے ، تو اسے حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے ایسے فرد کی مانند اجر ملتا ہے جس کا حج اور عمرہ مکمل ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اس کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔