حدیث نمبر: 16937
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنْ أَذْكُرَ اللَّهَ [ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ ] إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ : أُكَبِّرُ ، وَأُهَلِّلُ ، وَأُسَبِّحُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ ، وَأَسَانِيدُهُ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں صبح صادق کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک تکبیر ، تہلیل اور تسبیح پڑھتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کیا ہو ، اور میں عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کروں ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور امام طبرانی نے دوسری روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ، ان کی اسانید حسن ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8028) اخرجه احمد فى المسند (253/5)»