مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ بَيَانِ الْوَقْتِ . باب: وقت کا بیان
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ مَوْلَايَ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ فَيَقُولُ : أَدَلَكَتِ الشَّمْسُ ؟ فَإِذَا قُلْتُ : نَعَمْ ، صَلَّى الظُّهْرَ وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ [ حَيَّةٌ ] ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالصَّائِمُ يَتَمَارَى أَنْ يُفْطِرَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْفَجْرَ حِينَ يَتَغَشَّى النُّورُ السَّمَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا وَفِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : وَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ . وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ بَقِيَّةُ النَّاسِ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤مجاہد بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا سیدنا قیس بن سائب رضی اللہ عنہ کے سواری کے جانور کو لے کر چل رہا تھا ، انہوں نے دریافت کیا : سورج ڈھل گیا ہے ؟ جب میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے ظہر کی نماز ادا کر لی ، اور یہ بات بتائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اُس وقت ادا کرتے تھے جب سورج روشن اور چمکدار ہوتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ، جب روزہ دار اس شبہ کا شکار ہوتا تھا کہ شاید اس کی افطاری کا وقت ہو گیا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ، جب روشنی آسمان کو ڈھانپ لیتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، البتہ معجم اوسط میں انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرتے تھے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ، جس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ، باقی لوگوں نے یعنی امام أحمد ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔