مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ بَيَانِ الْوَقْتِ . باب: وقت کا بیان
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ وَقْتِ الظُّهْرِ فَقَالَ : أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ ظِلَّهُ إِلَى أَنْ يَصِيرَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْعَصْرِ فَقَالَ : صَلِّهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ فَقَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الشَّمْسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ کہ آدمی کا سایہ جب اس کے پاؤں میں ہو ، اُس وقت سے لے کر جب تک ہر چیز کا سایہ ایک مثل نہیں ہو جاتا ، اُس کے درمیان ( کا وقت ہے ) اُس شخص نے ان سے عصر کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : تم یہ نماز اس وقت ادا کرنا ، جب سورج روشن اور چمکدار ہو ، اس شخص نے ان سے مغرب کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : ، تو انہوں نے فرمایا : جب سورج غروب ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔