حدیث نمبر: 1687
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ - أَوْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ - كِلَاهُمَا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الظُّهْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الشَّيْءِ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ [ الْأَحْمَرُ ] فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ بَسَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ الْغَدَ وَظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَسْفَرَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الصُّبْحَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ أَصْلُهُ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ لِأَوَّلِ الْوَقْتِ وَآخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَمُسْلِمٌ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَةٍ ، وَكَذَلِكَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي رِوَايَاتٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا بشیر بن ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں صحابی ہونے کا شرف حاصل رکھتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُس وقت جب سورج ڈھل گیا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ ظہر کی نماز ادا کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے ، جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو چکا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ عصر کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کر لی ، پھر سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ مغرب کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق یعنی سرخی غروب ہو گئی تھی اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ اُٹھیں اور عشاء کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عشاء کی نماز ادا کر لی ، پھر وہ آپ کے اس وقت آئے جب صبح صادق ہوئی تھی ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اٹھیں اور صبح کی نماز ادا کر لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کر لی ۔ پھر اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا ، انہوں نے کہا: آے سیدنا محمد ! آپ انھیں اور ظہر کی نماز ادا کر لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز کر لی پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا تھا انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ عصر کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی ، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا ، ( دونوں دنوں میں ) یہ ایک ہی وقت ہے ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ مغرب کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی ، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے ، جب رات کا کچھ حصہ گزر چکا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اٹھیں اور عشاء کی نماز ادا کر لیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب صبح روشن ہو چکی تھی ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ صبح کی نماز ادا کر لیں ’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے بتایا : ان دو کے درمیان ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ” صحیح “ میں اس کی اصل موجود ہے ، جس میں ابتدائی اور آخری وقت کا بیان نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے علی بن مدینی ، امام مسلم اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ایک روایت کے مطابق عمرو بن علی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر روایات کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، تاہم اکثر محدثین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، من اسمه عقيل بشير بن ابي مسعود ، 14552»