حدیث نمبر: 1686
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا دَلَكَتِ الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلَالٌ الظُّهْرَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ حِينَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْهُ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَشَاءِ حِينَ ذَهَبَ بَيَاضُ النَّهَارِ وَهُوَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ الْغَدَ لِلظَّهْرِ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَادَ يَغِيبُ بَيَاضُ النَّهَارِ ، وَهُوَ الشَّفَقُ فِيمَا نَرَى ، ثُمَّ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ؟ فَإِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلَاةِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ أَوْ أَقْرَبَ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ " . ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ ، فَأَخَّرَهَا حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : جب سورج ڈھل گیا ، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی اذان دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر اُنہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، اس وقت جب ہم یہ گمان کر رہے تھے کہ آدمی کا سایہ اس سے زیادہ طویل ہو چکا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب دن کی سفیدی رخصت ہو گئی تھی ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس سے مراد شفق ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب صبح صادق ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر اگلے دن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب سورج ڈھل گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو مثل ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ دن کی سفیدی یعنی شفق رخصت ہو جاتی ، جو ہمیں نظر آ رہا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوئے ایسا کئی مرتبہ ہوا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ، اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ، تم نماز کی حالت میں شمار ہو گے ، اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں یہ نماز نصف رات ، یا نصف رات کے قریب تک مؤخر کر کے ادا کرنے کا حکم دیتا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اذان دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مؤخر کیا ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ان دو کے درمیان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔