حدیث نمبر: 16869
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَوَضَعَ يَدَيْهِ : إِحْدَاهُمَا عَلَى صَدْرِي ، وَالْأُخْرَى بَيْنَ كَتِفَيَّ ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ الَّتِي فِي صَدْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ، وَالَّتِي بَيْنَ كَتِفَيَّ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، كَبِّرِ الْكَبِيرَ ، وَهَلِّلْ بِالْيَقِينِ ، وَقُلْ : سُبْحَانَ رَبِّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے پاس آئے ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک میرے سینے پر رکھا اور دوسرا میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ ان کا جو ہاتھ سینے پر تھا ، اُس کی ٹھنڈک میں نے دونوں کندھوں کے درمیان محسوس کی ، اور جو ہاتھ دونوں کندھوں کے درمیان تھا ، اُس کی ٹھنڈک میں نے سینے میں محسوس کی ، پھر جبرائیل نے کہا: ” اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کبیر ذات کی کبریائی بیان کریں اور یقین کے ہمراہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھیں ، اور یہ پڑھیں : ” سب پہلے والوں اور سب بعد والوں کا پروردگار ، ہر عیب سے پاک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7896)»