مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ وَنَحْوِهَا . باب: باقی رہ جانے والی نیکیوں ، اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، كُتِبَتْ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ فِي بَاطِلٍ ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ، وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ ، وَمَنْ بَهَتَ مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْعَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ، وَلَيْسَ بِخَارِجٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص یہ کلمات پڑھتا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب نے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔ تو اس شخص کے لیے ہر ایک حرف کے بدلے میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہے ، اور جو شخص باطل کے بارے میں کسی جھگڑے میں مدد کرے گا ، وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا ، یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو جائے ، اور جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حد میں رکاوٹ بن رہی ہو ، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف چلتا ہے ، اور جو شخص کسی مومن مرد یا مومن عورت پر بہتان لگائے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ” ردعۃ خبال “ میں بند رکھے گا ، جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات کی سزا نہیں بھگت لیتا اور وہ وہاں سے نہیں نکل پائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔