مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ وَنَحْوِهَا . باب: باقی رہ جانے والی نیکیوں ، اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُؤْتِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ ، وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُؤْتِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الْإِيمَانَ ، فَمَنْ ضَنَّ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ ، وَهَابَ الْعَدُوَّ أَنْ يُجَاهِدَهُ ، وَاللَّيْلَ أَنْ يُكَابِدَهُ ; فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق ، تمہارے درمیان تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اس نے تمہارا رزق تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ مال اُس شخص کو بھی دے دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس شخص کو بھی دے دیتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ ایمان صرف اُس کو دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو اسے ایمان عطا کر دیتا ہے ، اور جو شخص مال خرچ کرنے کے حوالے سے بخل کا شکار ہو جائے ، یا جہاد میں حصہ لینے کے حوالے سے دشمن سے خوف زدہ ہو ، یا رات کے وقت عبادت نہ کر سکتا ہو ، اسے کثرت کے ساتھ ۔ «لا اله الا الله والله اكبر والحمد لله وسبحان الله» پڑھنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔