حدیث نمبر: 16851
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُسَبِّحُ لِلَّهِ تَسْبِيحَةً ، أَوْ يَحْمَدُهُ تَحْمِيدَةً ، أَوْ يُكَبِّرُهُ تَكْبِيرَةً ، إِلَّا غَرَسَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ ، أَصْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَأَعْلَاهَا مِنْ جَوْهَرٍ ، مُكَلَّلَةٌ بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، ثِمَارُهَا كَثَدْيِ الْأَبْكَارِ ، أَلْيَنُ مِنَ الزَّبَدِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، كُلَّمَا جَنَى مِنْهَا شَيْئًا عَادَ مَكَانَهُ " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ ) ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” جو بھی بندہ ایک مرتبہ «سبحان الله» پڑھتا ہے ، یا ایک مرتبہ ” الحمد للہ “ پڑھتا ہے ، یا ایک مرتبہ «الله اكبر» پڑھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیتا ہے ، جس کی جڑ سونے کی ہوتی ہے ، اور اس کا اوپر والا حصہ جواہرات سے بنا ہوا ہوتا ہے ، جو قیمتی پتھروں اور یاقوت سے آراستہ ہوتے ہیں ، اس درخت کے پھل کنواری لڑکیوں کی چھاتیوں کی مانند ہوتے ہیں اور جھاگ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں ، اور شہد سے زیادہ میٹھے ہوتے ہیں ، آدمی جب بھی اس میں سے کوئی پھل اتارے گا تو وہ پہلے کی مانند ہو جائے گا ( یعنی اس جگہ دوسرا پھل آ جائے گا ) ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : نہ وہ ایسے ہیں کہ وہ ختم ہو جائیں اور نہ ہی ممنوعہ ہیں ۔ “ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف